مصنوعی
ذہانت (AI)
کی تاریخ :
مصنوعی
ذہانت مختلف سائنسی شعبہ جات، نظریات اور تکنیکی طریقوں پر مشتمل ایک وسیع میدان
ہےجس میں ریاضیاتی منطق ، شماریات ، امکانات ، حسابی اعصابیات اور کمپیوٹر سائنس
شامل ہیں۔ اس
کا مقصد انسانوں کی ذہنی صلاحیتوں کی نقالی کرنا ہے یعنی مشینیں اس طرح کام کریں
جیسے انسان سوچتے، سیکھتے اور فیصلے کرتے ہیں۔
مصنوعی
ذہانت (Ai)کی
ابتداء :
مصنوعی
ذہانت کی تاریخ بہت ہی زیادہ سنجیدہ ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں ہے-
میں آپ کے سامنے اسے خلاصہ کے طور پر عرض کرتاہوں۔
1900 کی دہائی سے 2000 کی دہائی تک کی تاریخ :
1923 میں ایک چیک مصنف "کیرل چاپک" نے ایک ڈرامہ لکھا جس کا نام تھا "روسوم کے عالمی روبوٹ" اس میں پہلی بار لفظ "روبوٹ" استعمال ہوا جو بعد میں پوری دنیا میں مشہور ہو گیا۔
:1943وارن مک کلوک اور والٹر پٹس کا تاریخی تحقیقی مقالہ:
وارن مک کلوک (نیوروفزیالوجسٹ) اور والٹر پٹس (منطقی سائنسدان) نے ایک تحقیقی مقالہ لکھا اس میں انہوں نے یہ دکھایا کہ مصنوعی نیورونز کا استعمال کر کے منطقی افعال کو کس طرح انجام دیا جا سکتا ہے ان کا نیورون ماڈل "آن" یا "آف" کے بائنری انداز میں کام کرتا تھا۔ یہ ماڈل اس بات کی دلیل پیش کرتا تھا کہ اگر نیورونز کو مخصوص انداز میں جوڑا جائے تو یہ Turing Machine جیسے کمپیوٹر کی نقل کر سکتے ہیں۔ یہ تحقیق مصنوعی نیورل نیٹ ورکس کی بنیاد بنی جو بعد میں AI میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
1940 کی دہائی کے آخر میں ڈاکٹر گریے والٹر اور روبوٹ ڈاکٹر ڈبلیو گریے والٹر (برطانوی نیوروسائنٹسٹ) نے دنیا کے ابتدائی خود مختار روبوٹس تیار کیے ان کا نام "Elmer" اور "Elsie" تھا جنہیں "Tortoises" کہا جاتا تھا۔ یہ روبوٹس روشنی اور چھونے والے حساس آلے رکھتے تھے اور ماحول کے مطابق ردِ عمل ظاہر کرتے تھےانہیں "Machina Speculatrix" یعنی غور و فکر کرنے والی مشین کہا گیا۔ گریے والٹر کا کام سائبرنیٹکس اور روبوٹکس کے میدان میں بہت اہم مانا جاتا ہے۔
1945میں مشہور مصنف "آئزک ایزموف" نے سب سے پہلے روبوٹ سے متعلق علم کو "روبوٹ سازی" کا نام دیا۔ روبوٹ سازی وہ علم ہے جو روبوٹ بنانے، ان کے اصول، اور ان کے رویے سے متعلق ہوتا ہے۔
1950 کی دہائی AI
کے نظریاتی اور عملی بنیادیں:
آلن
ٹورنگ نے مقالہ لکھا اس میں انہوں نے سوال اٹھایا: "کیا مشین سوچ سکتی
ہے؟"
انہوں
نے Turing Test پیش کیا اگر کوئی مشین انسان کی طرح
بات کرے اور پہچانی نہ جا سکے کہ یہ مشین ہے یا انسان
تو وہ ذہین سمجھی جائے گی۔
1956 ڈارٹ ماؤتھ کانفرنس (AI
کا باقاعدہ آغاز):
جان
میکارتھی نے Artificial Intelligence کی اصطلاح متعارف کرائی اس کانفرنس میں مارون منسکی، نیتھینیئل
راچیسٹر، کلاڈ شینن جیسے سائنسدان شریک ہوئےا س موقع پر یہ طے ہوا کہ مشینیں بھی
انسانی طرز پر سوچنے کے قابل بنائی جا سکتی ہیں۔
1958میں
جان میکارتھی نے ایک نئی کمپیوٹر کی زبان بنائی، جسے خاص طور پر ذہین مشینوں کے
لیے بنایا گیا تھا۔ یہ زبان آج بھی بعض جگہوں پر استعمال ہوتی ہے۔
1964 ڈینی بابرو نامی طالب علم نے ایک ایسا منصوبہ تیار کیا جس
میں مشین انسانی زبان کو سمجھ کر ریاضی کے سوال حل کرتی تھی۔
1965میں"جوزف ویزن بام" نے ایک ایسی گفتگو کرنے والی مشین بنائی جس کا نام "ایلیزا" تھا۔ یہ مشین انسانوں سے ان کی زبان میں سوال جواب کر سکتی تھی۔1965 میں ہیMIT میں پہلا
ماہر سسٹم بنایا گیا (کیمیائی تجزیے کے
لیے)۔
1969میں"اسٹینفورڈ تحقیقاتی ادارے" نے ایک چلنے پھرنے والا ذہین آلہ بنایا، جسے شیکی کہا جاتا تھا۔ یہ آلہ چل بھی سکتا تھا، چیزیں دیکھ سکتا تھا اور خود سے فیصلہ بھی کر سکتا تھا۔
1970 کی دہائی پہلا سُست دور:
1950 کے بعد AI
کی ترقی رُک سی گئی کیونکہ اس وقت کی ٹیکنالوجی AI کے نظریات کو حقیقت میں بدلنے کے قابل نہیں تھی۔
1972 میں Stanford نے MYCIN تیار کیا (خون کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے) یہ سسٹمز انسانی ماہرین کی طرح فیصلے کرتے تھے، مگر ان کے لیے سینکڑوں اصولوں کو داخل کرنا پڑتا تھا۔ مشین کا سوچنے کا طریقہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ میں نے اپنے پہلے بلاگ میں بتایا ہے کہ مشین کے سوچنے کا طریقہ اور کیسے بنتی اور کام کرتی ہے تو آپ اس بلاگ کوویب سائٹ سے پڑھ سکتے ہے۔
1973میں"ایڈنبرا
یونیورسٹی" میں ایک اور ذہین آلہ بنایا گیا جسے فریڈی کہا گیا۔ یہ آلہ اپنی
آنکھوں سے چیزیں دیکھ کر، ان کو پہچان کر، ایک مکمل ماڈل تیار کر سکتا تھا۔
1979"اسٹینفورڈ کارٹ"ایک خودکار گاڑی تھی، جو بغیر انسان کے خود چل سکتی تھی۔ یہ دنیا کی پہلی خودکار گاڑی تھی۔
1985 میں"ہیرولڈ کوہن" نامی فنکار نے ایک ایسا کمپیوٹر
پروگرام بنایا جو خود بخود تصویریں بناتا تھا۔
1990 کی دہائی ماڈرن AI کا آغاز:
انٹرنیٹ کے آنے سے ڈیٹا کی بہتات ہوئی، جس نے مشین لرننگ کے لیے ایندھن فراہم کیا۔ اس دور میں ذہین مشینوں کے کئی میدانوں میں بہت ترقی ہوئی:
مشینوں نے خود سیکھنے کی صلاحیت حاصل کر لی ، مشینیں پرانے مسئلوں کو دیکھ کر نئے مسئلوں کا حل نکالنے لگیں ، مشینیں مل کر منصوبہ بندی کرنے لگیں ،مشینیں کاموں کو وقت کے حساب سے بہتر ترتیب دینے لگیں، مشینیں انٹرنیٹ سے خود معلومات جمع کرنے لگیں، مشینیں زبانوں کو سمجھ کر ترجمہ کرنے لگیں ،مشینیں تصاویر اور مصنوعی دنیا کو سمجھنے لگیں، ذہین مشینیں کھیلوں میں انسانوں کے مقابلے پر آ گئیں-
1997میں دنیا کی مشہور کمپنی "آئی بی ایم" نے ایک ذہین مشین بنائی جس کا نام تھا ڈیپ بلیو۔ اس مشین نے دنیا کے مشہور شطرنج کے کھلاڑی "گیری کیسپیروف" کو شکست دی۔ یہ مصنوعی ذہانت کی تاریخ کا بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔
2000میں
وہ کھلونے اور پالتو مشینیں بنیں جو انسانوں کی طرح حرکت کرتی تھیں، آوازوں پر ردِ
عمل دیتی تھیں اور جذبات ظاہر کرتی تھیں۔ "کسمیٹ" نامی ایک چہرہ دکھانے
والی مشین بنائی گئی جو خوشی، غصہ اور حیرت جیسے جذبات ظاہر کر سکتی تھی۔ ایک مشین
نے برف سے ڈھکے علاقوں میں جا کر آسمانی پتھر تلاش کیے۔
2000 سے 2025 تک خود کار ذہنی نظام (مصنوعی ذہانت) کی مکمل تاریخ:
2001میں
فلمی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا تعارف:
اس سال ایک مشہور فلم ’’مصنوعی ذہانت‘‘ کے عنوان سے منظرِ عام پر آئی۔ اس فلم میں ایک ایسا بچہ دکھایا گیا جو مشین تھا، مگر جذبات رکھتا تھا۔ اس فلم نے دنیا بھر کے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر مشینیں انسانوں کی طرح سوچنے لگیں تو کیا ہوگا؟ گویا کہ یہ صرف ایک فلم تھی لیکن اس نے عوامی شعور میں مصنوعی ذہانت کا بیج بو دیا۔
2005میں
بغیر انسان کے چلنے والی گاڑیاں :
اس
سال امریکہ میں ایک مقابلہ منعقد ہوا جس میں ایسی گاڑیاں شامل ہوئیں جو بغیر انسان
کے خود چلتی تھیں۔ ان گاڑیوں میں ایسا خودکار ذہنی نظام لگایا گیا تھا جو راستے کو
پہچانتا، رکاوٹوں سے بچتا اور خود فیصلے کرتا تھا۔ یہ مظاہرہ اس بات کی دلیل تھا
کہ مشینی دماغ صرف سوچ ہی نہیں سکتا، بلکہ عمل بھی کر سکتا ہے۔
2008میں
ہاتھوں میں موجود مشینوں کا ذہناس:
اس سال جیب میں رکھنے والے ٹیلی فون جنہیں ’’ہوش مند فون‘‘ کہا جا سکتا ہے، عام ہونے لگے ان فونوں میں ایسے سافٹ ویئر شامل ہوئے جو انسان کی آواز کو سمجھ سکتے تھے۔
مثلاً: جب کوئی شخص فون سے کوئی بات پوچھتا تو فون اس کا مطلب سمجھ کر جواب
دیتا یہ وہ وقت تھا جب مصنوعی ذہانت ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بننے لگی۔
2011مشینی
ذہن کا انسانوں پر غلبہ:
ایک مشہور امریکی معلوماتی کھیل ’’جیؤپارڈی‘‘ میں ایک مشین نے حصہ لیا اس مشین کا
نام ’’واٹسن‘‘ تھا، جسے ایک بڑی کمپنی نے تیار کیا تھا۔ یہ مشین انسانوں کی زبان کو
سمجھ سکتی تھی اور درست جوابات دے سکتی تھی۔ اس مشین نے دو ماہر کھلاڑیوں کو شکست
دے کر دنیا کو حیران کر دیا بعد میں یہی مشین صحت، مالیات اور عوامی خدمات میں
استعمال ہونے لگی۔
2012تصویروں کو پہچاننے والا ذہن:
اس سال پہلی بار ایک مشینی دماغ نے تصویریں پہچاننے میں انسانوں سے بہتر کارکردگی
دکھائی۔ اس تجربے نے مشینی نظاموں کو آنکھوں کی طرح بنانے کا راستہ کھولا بعد ازاں
یہ مہارت بہت سے میدانوں میں کام آئی، جیسے چہرے کی پہچان، گاڑیوں کی نظر، اور طبی
تجزیہ۔
2014 بات چیت کرنے والی مشینیں:
اس سال کئی بڑی کمپنیوں نے ایسے نظام متعارف کروائے جو انسانوں سے بات چیت کر سکتے
تھے۔ یہ نظام خودکار پیغام رسانی کے لیے استعمال ہوئے، جیسے صارف سے سوال پوچھ کر
اسے جواب دینا۔ اسی سال آواز پر کام کرنے والے مددگار نظام بھی بہتر ہوئے، جو اب
آواز کو سمجھ کر کام کر سکتے تھے۔
2016 ذہنی کھیل میں مشین کی فتح:
اس سال ایک مشین نے ’’گو‘‘ نامی ایک بہت ہی پیچیدہ کھیل میں دنیا کے ماہر ترین کھلاڑی کو شکست دی۔ یہ کھیل انسانی ذہانت اور حکمت عملی کا امتحان ہوتا ہے۔ مشین کا جیتنا اس بات کی نشانی تھا کہ مشینی دماغ اب تخلیقی فیصلے بھی کرنے لگا ہے۔
2018میں
خود سیکھنے والے الفاظ کا نظام :
اس
سال ایک ایسا ذہنی نظام بنایا گیا جو انسانوں کے لکھے ہوئے لاکھوں جملوں سے خود
سیکھ کر بات کر سکتا تھا۔ یہ نظام نئے جملے بنانے، سوالات کے جواب دینے اور مکمل
مضامین لکھنے کے قابل ہو چکا تھا۔ یہ ایک خاموش مگر زبردست پیش رفت تھی۔
2019 طاقتور ترین مشینی مصنف:
اس
سال پہلے سے کئی گنا طاقتور خود سیکھنے والا نظام تیار کیا گیا مگر اس کی پوری
صلاحیت عام لوگوں تک نہ پہنچائی گئی کیونکہ اسے بہت طاقتور اور خطرناک سمجھا گیا یہ نظام بغیر کسی انسان کے مکمل کہانیاں اور دلائل پر مبنی تحریریں لکھ سکتا تھا۔
2020 الفاظ کا شہنشاہ:
یہ
سال خود کار ذہانت کے لیے یادگار رہا۔ ایک ایسا دماغ تیار کیا گیا جس میں ایک وقت
میں175 ارب سے زیادہ الفاظ اور جملے محفوظ کیے جا سکتے تھے۔ یہ نظام
انسانوں سے بات کر سکتا تھا، تقریریں لکھ سکتا تھا، سوالات کا جواب دے سکتا تھا
اور یہاں تک کہ نظمیں بھی لکھ سکتا تھا۔
2022 چیٹ کے انداز میں بات کرنے والا ذہن:
اس
سال ’’چیٹ جی پی ٹی‘‘ نامی ایک نیا نظام آیا۔ یہ نظام انسان کی طرح گفتگو کرتا تھا۔
طالب علموں، لکھاریوں، تاجروں، اور عام لوگوں نے اسے بہت پسند کیا۔ یہ آج کے دور کی
سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ذہانت بن گئی۔
2023تحریر
اور تصویر دونوں کو سمجھنے والا ذہن:
اب
مشین صرف لکھے ہوئے لفظ ہی نہیں، بلکہ تصویریں بھی سمجھنے لگی۔ یعنی اگر آپ کوئی
تصویر دکھائیں تو یہ مشین بتا سکتی تھی کہ اس میں کیا ہے، کیا ہو رہا ہے اور کیا
مطلب ہے۔ یہ انسان اور مشین کے درمیان فاصلہ مزید کم کرنے والا قدم تھا-
2024 میں ہمہ جہت دماغ کی آمد:
اس
سال ایسا نظام تیار کیا گیا جو ایک ہی وقت میں سن سکتا تھا، دیکھ سکتا تھا اور پڑھ
سکتا تھا اسے ’’ہمہ جہت مشینی ذہن‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ یہ انسان کی طرح آواز میں بات
کرتا، تصویر دیکھ کر تبصرہ کرتا، اور سوالات کا فوری جواب دیتا تھا۔ یہ پہلا قدم
تھا ایک مکمل ’’ذہین ہم نشین‘‘ کی طرف۔
2025میں
آج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت:
آج
مشینی ذہن ہمارے ساتھ ہر جگہ ہے:
تعلیم میں استاد کی طرح ,صحت میں طبیب کی طرح ,کاروبار میں مشیر کی طرح ,تحریر میں مصنف کی طرح,اور بات چیت میں ساتھی کی طرح جاب میں مشینیں صرف حکم ماننے والی نہیں بلکہ سمجھنے، سیکھنے، مشورہ دینے اور فیصلہ کرنے والی بن چکی ہیں۔
2002 میں خوابوں جیسی باتیں آج 2025 میں ہماری حقیقت بن چکی ہیں۔
مصنوعی ذہانت اب صرف ایک مضمون یا سائنسی تجربہ نہیں، بلکہ انسانی زندگی کا ساتھی
اور مددگار بن چکا ہے۔


0 Comments