Artificial Intelligence Meaning in Urdu

 

اے آئی(Artificial intelligence) کامطلب:

اےآئی کا مطلب ہے مصنوعی ذہانت ۔

مصنوعی ذہانت کی لفظی وضاحت:

مصنوعی : یعنی بنایا گیا، غیر فطری، انسان کے ہاتھوں تیار کردہ۔

ذہانت : یعنی سمجھ بوجھ، عقل، سیکھنے اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیت۔

مصنوعی ذہانت کیا ہے؟

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے کمپیوٹر، روبوٹ یا سافٹ ویئر کو اس طرح سوچنے کے قابل بنایا جاتا ہے جیسے انسان سوچتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے بانی جان میکارتھی کے مطابق"مصنوعی ذہانت وہ علم اور ٹیکنالوجی ہے جس میں ذہین مشینیں اور خاص طور پر ذہین کمپیوٹر پروگرام بنائے جاتے ہیں"یہ ٹیکنالوجی اس بات کا مطالعہ کرتی ہے کہ انسان کا دماغ کیسے کام کرتا ہے، انسان کیسے سیکھتے ہیں، فیصلے کرتے ہیں اور مسائل کو حل کرتے ہیں۔ پھر انہی اصولوں کی مدد سے ایسے سافٹ ویئر یا مشینیں تیار کی جاتی ہیں جو انسانوں کی طرح سمجھداری سے کام کر سکیں۔




مصنوعی ذہانت کا مقصد:

مصنوعی ذہانت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مشینیں اور کمپیوٹر انسانوں کی طرح سوچ سکیں,سیکھ سکیں,سمجھ سکیں,فیصلے کر سکیں٫ مسائل کا حل نکال سکیں یعنی انسانی ذہانت کی نقل (copy) مشینوں میں پیدا کرنا۔


اہم مقاصد کی تفصیل:


1:  انسانی ذہانت کی نقل بنانا:

AI کا پہلا اور بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان جس طرح سوچتا، سیکھتا اور مسئلے حل کرتا ہے، ویسے ہی مشین کو سکھایا جائے۔جیسے ایک روبوٹ یا سافٹ ویئر ایسا ہو کہ وہ خود سمجھے کہ کس وقت کیا کرنا ہے یا سافٹ ویئر ایسا ہو کہ وہ خود سمجھے کہ کس وقت کیا کرنا ہے۔


2: کاموں کو خودکار بنانا :

AI کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ ایسے کام جو انسان بار بار کرتے ہیں، وہ خود بخود مشینیں انجام دیں۔ جیسے: فیکٹریوں میں خودکار مشینیں، یا گوگل میپ کا خود سے راستہ بتانا۔


3: فیصلہ سازی میں مدد دینا :

AI انسانی فیصلہ سازی کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہےجیسے:میڈیکل رپورٹس پڑھ کر بیماری کی شناخت,مارکیٹنگ میں کسٹمرز کے رویے کی پیشگوئی وغیرہ ۔


4: وقت اور وسائل کی بچت:

AI مشینوں کو تیز، مؤثر اور سستے انداز میں کام کرنے کے قابل بنانا۔ جیسے:انسان جو کام گھنٹوں میں کرے، AI وہ چند منٹوں میں کر سکتی ہے۔


5: مشکل یا خطرناک کام انجام دینا:

AI کو ایسے کاموں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جہاں انسان کی جان کو خطرہ ہو جیسے: کہ خلائی مشن،بم کو ناکارہ بنا نا یا غیر مؤ ثر بنانا،خطرناک جگہوں پر نگرانی کرنا۔


:6سیکھنے اور تجزیے کی طاقت:

AI کا مقصد یہ بھی ہے کہ کمپیوٹر ڈیٹا سے خود سیکھے اور خود کو بہتر بناتا جائےیعنی:  مشین لرننگ جتنا زیادہ ڈیٹا اتنی زیادہ سمجھ بوجھ۔ -


7: زبان اور گفتگو سمجھنا:

AI کا اہم مقصد یہ بھی ہے کہ انسانوں کی بولی، تحریر، زبان کو سمجھ سکے اور خود بات چیت کر سکے-جیسے: چیٹ بوٹ، ترجمہ، آواز پہچاننے والے سسٹمز وغیرہ ۔


8: انسانی زندگی آسان بنانا:

AI کا طویل مدتی مقصد یہ ہے کہ انسان کی روزمرہ زندگی میں سہولت پیدا کرے لیکن احتیاط اور اصولوں کے ساتھ۔ جیسے:سمارٹ فونز,خودکار گاڑیاں،گھریلو اسسٹنٹس۔

مصنوعی ذہانت کیسے بنتی ہے؟


1:مسئلے کی شناخت:

سب سے پہلے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ہم مشین سے کیا کام لینا چاہتے ہیں۔ کیا ہم اسے تصویر پہچاننا سکھانا چاہتے ہیں؟کیا ہم چاہتے ہیں کہ وہ سوال کا جواب دے؟ یا کوئی چیز خود سے سیکھے اور فیصلہ کرے؟ماہرین اس مقصد کو واضح کرتے ہیں تاکہ سسٹم صحیح رخ پر بن سکے۔


2: معلومات اکٹھا کرنا:

‎                                       اب مشین کو سکھانے کے لیے بہت ساری معلومات درکار ہوتی ہیں،جیسے:تصویریں,آوازیں،جملے،عددی معلومات،یا مختلف تجربات کا ریکارڈ یہ معلومات مشین کے استاد کا کام دیتی ہیں۔ 


3:معلومات کو ترتیب دینا اور صاف کرنا:

ملی ہوئی معلومات میں اکثر غلطیاں ادھوری باتیں یا غیر ضروری چیزیں ہوتی ہیں اس لیے معلومات کو صاف، مکمل اور قابلِ سمجھ شکل میں ترتیب دیا جاتا ہے۔


4: عملی طریقہ منتخب کرنا:

ماہرین فیصلہ کرتے ہیں کہ مشین کو سکھانے کے لیے کون سا طریقہ بہتر ہو گا۔کچھ طریقے مثال سے سکھاتے ہیں۔کچھ بغیر مثال کے خود سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کچھ آزمائش اور غلطی کے ذریعے سیکھتے ہیں۔یہ سب سیکھنے کے انداز ہوتے ہیں، جنہیں دانشمندی سے چُنا جاتا ہے۔


5:مشین کو سکھانا:

اب مشین کو بار بار معلومات دکھائی جاتی ہیں، تاکہ وہ چیزوں کے درمیان فرق کو پہچانے،نتائج اخذ کرے،اور ہر غلطی سے کچھ سیکھے-یہ عمل ایسے ہوتا ہے جیسے ایک طالب علم بار بار سبق دہراتا ہے۔


6:نتائج کی جانچ:

مشین سے کچھ سوالات پوچھے جاتے ہیں یا نئے حالات دیے جاتے ہیں، تاکہ جانا جا سکے کہ کیا وہ سیکھ چکی ہے؟کیا وہ درست جواب دے رہی ہے؟کہاں کہاں وہ غلطی کر رہی ہے؟اگر وہ اچھی کارکردگی نہ دکھائے تو اسے دوبارہ سکھایا جاتا ہے۔


7: بہتری اور درستگی:

جب مشین سیکھ جائے تو ماہرین اس کے طریقہ کار میں معمولی تبدیلیاں باریکیوں کی اصلاح اور ترتیب کی بہتری کرتے ہیں تاکہ وہ زیادہ سمجھدار اور قابلِ اعتماد ہو جائے۔


8:عملی استعمال:

اب مشین کو روزمرہ کی زندگی، اداروں یا صنعتوں میں استعمال کیا جاتا ہے، جیسے:خودکار گاڑیاں بیماریاں پہچاننے والی مشینیں ترجمہ کرنے والے سافٹ ویئر یا سوالات کے جواب دینے والے نظام۔


9: نگرانی اور نیا سیکھنا:

مشین کو مسلسل دیکھا جاتا ہے۔ اس کی کارکردگی نوٹ کی جاتی ہےاور وقتاً فوقتاً نئی معلومات سے دوبارہ سکھایا جاتا ہے تاکہ وہ حالات کے مطابق بہتر ہوتی رہے۔

 



مصنوعی ذہانت کی اقسام :

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی اقسام کو تفصیل سے اور آسان اردو میں سمجھتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی بنیادی طور پر تین (3) بڑی اقسام ہوتی ہیں:

 

1: محدود مصنوعی ذہانت(Narrow Ai) :

یہ ایسی مصنوعی ذہانت ہوتی ہے جو کسی ایک خاص کام کو انجام دینے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ یہ صرف اسی ایک مخصوص کام میں مہارت رکھتی ہے، اور اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی۔

مثالیں:

·       Siri / Google Assistant / Alexa صرف آواز کے ذریعے احکامات سمجھ کر جواب دیتی ہیں۔

·       ChatGPT: بات چیت کرنے اور سوالوں کے جواب دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔

·       گوگل میپ (Google Maps): راستہ دکھانے اور ٹریفک کی معلومات کے لیے۔

·       فیس بک کا فیس ریکگنیشن سسٹم: چہرہ پہچاننے کے لیے۔


 خصوصیات:

صرف ایک مخصوص فنکشن یا ٹاسک پر کام کرتی ہے۔خود سے کچھ نیا نہیں سیکھ سکتی، جب تک انسان اسے پروگرام نہ کرے۔آج کے زمانے میں جو AI ہم استعمال کرتے ہیں، وہ زیادہ تر Narrow AI یعنی محدود سے آئی ہوتی ہے۔

: 2عام مصنوعی ذہانت (General AI / Strong AI):

یہ ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو انسانوں کی طرح سوچنے، سیکھنے، اور ہر طرح کے کام کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

خصوصیات:

خود سیکھ سکتی ہے (Learning Ability) مختلف حالات میں خود فیصلہ کر سکتی ہے۔جذبات، خیالات اور تجربات کو سمجھ سکتی ہے۔نئی معلومات حاصل کر کے اپنی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہے.

 

موجودہ صورتحال:

ابھی صرف تحقیقاتی مرحلے میں ہے، دنیا میں کہیں بھی General AI پوری طرح موجود نہیں ہے۔سائنسدان ابھی اس پر کام کر رہے ہیں تاکہ مشینیں انسانوں کے برابر سوچ سکیں۔


3: اعلیٰ مصنوعی ذہانت (Super AI)

یہ ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو انسانوں سے بھی زیادہ ذہین، سمجھدار، اور تخلیقی ہو گی۔

 

خصوصیات:

انسان سے بہتر فیصلے کر سکے گی,خود تخلیقی آئیڈیاز دے سکے گی,جذبات، احساسات اور اخلاقیات کو گہرائی سے سمجھے گی,انسانوں سے تیز سیکھنے اور سکھانے کی صلاحیت ہو گی۔

موجودہ صورتحال:

یہ ابھی صرف ایک تصور (theory) ہے، حقیقت میں ایسی کوئی AI ابھی موجود نہیں۔یہ مستقبل میں ممکن ہو سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہیں (جیسے انسانوں پر کنٹرول، آزادی کا خاتمہ وغیرہ)۔

انسانی اور مشینی ذہانت کے درمیان فرق:

انسانی ذہانت اور مشینی ذہانت کے فرق کو آسان اور تفصیل سے سمجھتے ہیں، تاکہ دونوں کا فرق واضح ہو سکے۔


1: انسان چیزوں کو پیٹرن یعنی ترتیب سے سمجھتا ہے۔انسان دماغ سے چیزوں کو پہچاننے کے لیے ترتیب یا پیٹرن کو دیکھتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی چیز بار بار دہرائی جائے تو انسان جلدی سمجھ جاتا ہے۔ جیسا کہ اگر آپ کو نمبر 4040404 دیا جائے، تو آپ اسے آسانی سے یاد رکھ سکتے ہیں کیونکہ اس میں ایک خاص ترتیب ہے (40 بار بار آ رہا ہے)۔ جبکہ مشین کیا کرتی ہے؟ مشین کو کوئی ترتیب سمجھ نہیں آتی، وہ صرف نمبر کو ایک ایک کر کے ڈیٹا کے طور پر یاد کرتی ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھ سکتی کہ 40 بار بار آ رہا ہے، بلکہ اسے 4-0-4-0 کی صورت میں الگ الگ رکھنا پڑتا ہے۔


2: انسان چیزوں کو یاد کرنے اور یاد رکھنے میں ترتیب دیکھتا ہے۔انسان کوئی چیز یاد کرتے وقت اس کا پیٹرن  یعنی انداز، شکل، یا تکرار دیکھتا ہے، اور اسے آسانی سے یاد رکھ لیتا ہے۔جیسا کہ اگر کسی کا نمبر ہے 121212  تو انسان فوراً پہچان جائے گا کہ یہ 12 بار بار آیا ہے۔لیکن مشین کو صرف یہ یاد ہوگا کہ 1-2-1-2-1-2، یعنی الگ الگ نمبر۔


3:نسان ادھوری چیزوں کو مکمل سمجھ لیتا ہے۔اگر آپ کو کوئی چیز آدھی یا خراب حالت میں دکھائی جائے، تو انسان اپنے دماغ سے اندازہ لگا لیتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے۔ جیسا کہ اگر کسی تصویر میں آدھا چہرہ ہو، تو انسان فوراً سمجھ سکتا ہے کہ یہ انسان کا چہرہ ہے، چاہے آنکھ یا ناک نظر نہ آ رہی ہو۔لیکن مشین کیا کرتی ہے؟مشین کے لیے یہ مشکل ہے۔ اگر تصویر مکمل نہ ہو یا کچھ حصے خراب ہوں، تو مشین اندازہ نہیں لگا سکتی بلکہ اسے مکمل ڈیٹا چاہیے ہوتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments